بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی افواج کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو میزائل حملوں اور بحری ضربوں کا نشانہ بنایا۔ اس کاروائی نے ثابت کیا کہ ایران کے مفادات اور اثاثوں پر کسی بھی جارحیت کے صورت میں، وہ فوری اور اسی سطح کے جواب کے مستحق ہونگے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرواسپیس کے مجاہدوں نے اس کارروائی میں اردن میں امریکی اڈہ "الازرق" کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ اسی دوران بحری میدان میں بھی امریکی بحری جہازوں اور علاقے میں موجود ـ خلاف ورزی کرنے والے ـ ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔

جاری کردہ معلومات کے مطابق، اس کارروائی میں دو امریکی جنگی ڈسٹرائرز جن کے شناختی کوڈ DDG-119 اور DDG-53 ہیں، بھی حملے کی زد میں آئے۔ نیز سپاہ بحریہ نے 5 ایرانی ٹینکروں پر حملے کے جواب میں، دو امریکی جنگی بحری جہازوں اور 8 تیل بردار جہآزوں کو علاقے میں نشانہ بنایا۔
اس کارروائی کی جاری کردہ تصاویر میں قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اس میں کثیر وارہیڈز کے حامل قدر H میزائل استعمال کئے گئے۔ قدر H میزائل قدر خاندان کی ایک قسم ہے اور ایران کے طویل فاصلے کے میزائلوں میں شمار ہوتا ہے اور اس سے قبل بھی صہیونی رجیم کے ٹھکانوں کے خلاف میزائل کارروائیوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
قدر؛ طویل فاصلے پر مار کرنے والا پہلی نسل کا ایرانی میزائل
قدر میزائل طویل فاصلے پر مار کرنے والا پہلی نسل کا ایرانی میزائل سمجھا جاتا ہے اور اس کو تین نسلوں F، H اور S میں ترقی دی جا چکی ہے۔ یہ میزائل تقریباً 17 میٹر لمبا اور استعمال ہونے والی نوعیت کے لحاظ سے 15 سے 17.5 ٹن وزنی ہے، اور یہ 1350 سے 1950 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قدر دو مرحلاتی پروپلشن سسٹم سے لیس ہے اور بیلسٹک ٹراجیکٹری (Ballistic trajectory) پر پرواز کرتا ہے۔ اس میزائل کی مختلف اقسام کی ترقی، اسے متنوع عملیاتی منظرناموں میں استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
قدر H قسم کے میزائل اس سے قبل بھی "وعدہ صادق 3" آپریشن کی اکیسویں لہر میں مقبوضہ سرزمینوں پر صہیونی رجیم کے ٹھکانوں کی طرف داغے جا چکے تھے۔ نیز یہ میزائل کئی وارہیڈز کے ساتھ "وعدہ صادق 4" آپریشن میں بھی استعمال ہؤا تھا۔

کارروائی کا پیغام؛ امریکیوں کا کوئی بھی حملہ بلا جواب نہیں رہے گا
حالیہ کارروائی کی اہمیت محض میزائل کی نوعیت یا نشانہ بنائے گئے اہداف میں محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ کارروائی مخالف فریق کے لیے ایک تزویراتی پیغام ہے: ایران کے مفادات پر کسی بھی حملے کی صورت میں، حملہ آور کو براہِ راست اور فوری قیمت چکانا پڑے گی۔

متعدد وارہیڈز (Multiple-warheads) کا حامل قدر H جیسے طویل فاصلے کے میزائلوں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر ہونے والی جارحیت کا جواب ـ حملے کی حدود سے بہت آگے، اور اس کی جغرافیائی حد سے باہر، علاقے کی گہرائیوں میں دشمن کے اہداف کو نشانہ بنا کر ـ دیا جا سکتا ہے۔
پیغام واضح ہے؛ ایران پر حملہ بے جواب نہیں رہتا اور ہر ہر ضرب کا جواب اسی سطح پر دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ